Search

Ads

Showing posts with label tips. Show all posts
Showing posts with label tips. Show all posts

Saturday, April 19, 2014

10 health benefits of dark chocolate


Studies show that people who eat 1 to 2 servings of dark chocolate had reduced risk of heart failure. It can also help lower the blood pressure and reduce the risk of stroke. The nerve cells of people...

  1. Studies show that people who eat 1 to 2 servings of dark chocolate had reduced risk of heart failure. It can also help lower the blood pressure and reduce the risk of stroke. The nerve cells of people consuming dark chocolate are less prone to a stroke as compared to people who do not consume dark chocolate. Dark chocolate is rich in minerals such as copper and magnesium which are responsible for keeping the blood pressure normal especially in case of people with excessive fluctuation in their BP. It also promotes blood circulation because it thins the blood and has anti-clotting properties. Cholesterol clogs the veins and arteries and doesn’t let them function normally. But dark chocolate reduces LDL which the bad cholesterol levels in the arteries and heart.
     
  2. Dark chocolate is excellent for diabetic patients as it reduces insulin resistance and helps your body to use insulin efficiently. A certain ingredient in dark chocolate increases nitric oxide production and that helps control insulin sensitivity.
     
  3. Dark chocolate can help people lose weight. It gives it a more filling effect and lessens your cravings for fatty, sweet and salty foods. If you incorporate a little portion of dark chocolate into your diet, you can get optimum health benefits without the weight gain.
     
  4. A study showed that babies born to mothers, who consumed dark chocolates during their pregnancies, were happier and they smiled a lot more. So it is better to use dark chocolate during pregnancy rather than giving pacifiers to your crying babies after birth. It also relieves stress in mothers-to-be.
     
  5. Stress is a bad factor and one should steer clear of it as much as possible. Phenylethalmine is an important chemical found in dark chocolates and it is this same chemical found in the brain that creates the experience and feeling of love. This same chemical also encourages the release of endorphins by your brain, a chemical essential for putting you in a good mood. Dark chocolates can also relieve stress by reducing the level of stress hormones. It contains serotonin which acts as a natural anti-depressant.
     
  6. Dark chocolates prevent sun burns. It contains high levels of flavanols. A research study proved that flavanols found in chocolates can provide protection against harmful effects of the sun. Dark chocolate helps keep your skin healthy, glowing and flawless. Regular consumption of dark chocolate helps you achieve a smooth, problem free complexion and keeps your skin moist and well nourished. It helps in promoting blood circulation in the scalp which leads to increased growth of healthy hair. As dark chocolate is a circulation-booster, it is also found to be very effective in reducing hair loss
     
  7. Chocolates boost brain power. Research showed that participants who consume chocolates high in flavanol contents scored high in cognitive tests. It improves the blood flow to the brain. Also drinking flavanol rich cocoa can regulate the flow of blood to the key parts of the brain, as a result its performance is improved.
     
  8. Dark chocolates provide cough relief. It contains theobromine which is a chemical that is effective for treating cough.  It is better than other cough medicine, as it tastes good and does not have the negative side effects.
     
  9. It treats diarrhea. Research showed that flavonoids present in dark chocolate help to bind the protein responsible for regulating fluid secretion in the intestine and thus it provides a relief from diarrhea.
     
  10. Dark chocolate is one of the best cancer fighting foods. It inhibits the cancer cell division and reduces inflammation. While choosing chocolate, make sure it is atleat 70% cocoa.

Thursday, April 10, 2014

Benefits of Green Tea

سبز چائےقوت مدافعت کو بڑھانے میں معاون
تحقیق کے مطابق سبز چائے ڈھلتی عمر کے سبب بھول جانے کے مرض میں بھی انتہائی معاون ثابت ہوتی ہے اور یاداشت کو بڑھاتی ہے ۔
جدید تحقیق کے مطابق سبز چائے کااستعمال الرجی کے مریضوں کیلئے بہترین ہے ۔ قوت مدافعت کو بڑھانے میں بھی سبز چائے بنیادی کردار ادا کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ انفلوئنزا جیسے وبائی اور موسمی امراض سے بھی محفوظ رکھنے میں معاون ہے ۔

Friday, March 28, 2014

قبض رفع کرنے کی ترکیب

قبض رفع کرنے کی ترکیب
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیر کریں اپنے دوستوں کے ساتھ. اس قسم کی مزید معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں

Thursday, March 20, 2014

Natural Treatment of Dengue Fever


اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیر کریں اپنے دوستوں کے ساتھ. اس قسم کی مزید معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں اس لنک پے کلاک کریں http://bit.ly/1eN8XVq

انتباہ :
ہمارے تمام ناظرین سے التماس ہے کہ HTV کے فیس بک پیج پہ شائع ہونے والا تمام مواد آپکی صحت کی بھتری اور معلومات عامہ سے متعلق ہے۔ آپکی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے ۔ اگر آپ خدانخواستہ کسی مرض میں مبتلا ہیں تو براہ کرم اپنے معالج سے رجوع کریں ۔ آپ ہمارے فیس بک پر دئے گئے پیج سے کسی مواد کو اپنے علاج کے لئے استعمال کریں تو اس میں HTV قطعی طور پر ذمہ دار نہیں ہوگا۔

موبائل فون والے حضرات :
موبائل فون پر فیس بک پیج دیکھنے والوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ پوسٹ پر کلک کر اس پوسٹ کا سائز بڑا بھی کر سکتے ہیں جس سے انہیں پوسٹ پڑھنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

Tuesday, March 11, 2014

Amazing and simple Teeth whitener

کیلے کے چھلکے سے اپنے دانت سفید کریں
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیر کریں اپنے دوستوں کے ساتھ. 
انتباہ :
ہمارے تمام ناظرین سے التماس ہے کہ HTV کے فیس بک پیج پہ شائع ہونے والا تمام مواد آپکی صحت کی بھتری اور معلومات عامہ سے متعلق ہے۔ آپکی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے ۔ اگر آپ خدانخواستہ کسی مرض میں مبتلا ہیں تو براہ کرم اپنے معالج سے رجوع کریں ۔ آپ ہمارے فیس بک پر دئے گئے پیج سے کسی مواد کو اپنے علاج کے لئے استعمال کریں تو اس میں HTV قطعی طور پر ذمہ دار نہیں ہوگا۔

موبائل فون والے حضرات :
موبائل فون پر فیس بک پیج دیکھنے والوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ پوسٹ پر کلک کر اس پوسٹ کا سائز بڑا بھی کر سکتے ہیں جس سے انہیں پوسٹ پڑھنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا
‪#‎Health‬ ‪#‎Wellness‬ ‪#‎Lifestyle‬ ‪#‎Pakistan‬
‎کیلے کے چھلکے سے اپنے دانت سفید کریں 

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیر کریں اپنے دوستوں کے ساتھ. اس قسم کی مزید معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں اس لنک پے کلاک کریں http://bit.ly/1eN8XVq 

انتباہ :
ہمارے تمام ناظرین سے التماس ہے کہ HTV کے فیس بک پیج پہ شائع ہونے والا تمام مواد آپکی صحت کی بھتری اور معلومات عامہ سے متعلق ہے۔ آپکی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے ۔ اگر آپ خدانخواستہ کسی مرض میں مبتلا ہیں تو براہ کرم اپنے معالج سے رجوع کریں ۔ آپ ہمارے فیس بک پر دئے گئے پیج سے کسی مواد کو اپنے علاج کے لئے استعمال کریں تو اس میں HTV قطعی طور پر ذمہ دار نہیں ہوگا۔

موبائل فون والے حضرات :
موبائل فون پر فیس بک پیج دیکھنے والوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ پوسٹ پر کلک کر اس پوسٹ کا سائز بڑا بھی کر سکتے ہیں جس سے انہیں پوسٹ پڑھنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

#Health #Wellness #Lifestyle #Pakistan‎ 

Keep Visiting For Many More.

Monday, March 10, 2014

پھل اور سبزیوں سے علاج (انگور) کے فوائد Treatment With vigitable and fruites




پھل اور سبزیوں سے علاج (انگور) کے فوائد


اللہ تعالی نے جہاں انسان کیلئے مختلف اقسام کے اجناس، سبزیاں، ترکاریاں اور دیگر مختلف النوع خوردنی نعمتیں پیدا کی ہیں وہاں مختلف قسم کے موسمی پھل بھی پیدا فرمائے ہیں جو نہ صرف ذائقہ و لذت کے اعتبار سے بہترین کیفیات و تاثرات سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ قدرت نے ان پھلوں میں حیاتیاتی جو ہر اورامراض سے شفابخشی کے کمالات بھی سمودئیے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ طبی نقطہ نظر سے اکثر و بیشتر پھلوں میں تقویت
بدن کے ایسے ایسے حیران کن جو ہر پوشیدہ ہیں کہ ان کے سامنے بیشتر دوائیں بھی محض رسمی اور عمومی ہو کر رہ جاتی ہیں ایسی ہی نعمتوں میں ایک نعمت انگور ہے جو انتہائی لذیذ اور بے مثال قوت بخش پھل ہے اسے صحت و توانائی فراہم کرنے کے لحاظ سے ایک اچھوتا اور پر کشش پھل تصور کیا جاتا ہے قدرت کے اس کیپسول میں تین بنیادی خصوصیات ایسی ہیں کہ سوائے انار کے دوسرے پھلوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
*۔۔۔ انگورکثیر الغذا ہے۔
غذائیت اور توانائی کے خزانوں سے بھر پور یہ ایک کثیر الغذا پھل ہے ۔ انگور کے پختہ پھل کا استعمال اچھے سے اچھے گوشت و اعلیٰ ترین پروٹینز اور وٹامنز والی غذاؤں سے بھی بہتر ثابت ہوتا ہے خوش قسمتی سے پاکستان میں کوئٹہ سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے اور بطور غذا مستعمل ہے۔
*۔۔۔ انگورزودہضم ہے۔
انگور کی دوسری بڑی خوبی اس کا زو دہضم اور لطیف ہوناہے اس کے استعمال سے نہ توطبیعت بوجھل ہوتی ہے اور نہ ہی معدے میں کسی قسم کی گرانی پیدا ہوتی ہے بلکہ دوسری کھائی ہوئی غذا کو بھی ہضم کرنے کا باعث بنتا ہے۔
*۔۔۔ انگور خون صالح پیداکرتا ہے۔
انگورجسم میں تازہ اور مصفی خون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے تمام معالجین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی تندرستی کا دارو مدار خون صالح کی پیداوار سے ہے اگر جگر خون پیدا کرنا بند کر دے تو انسانی صحت جواب دے جاتی ہے جسم کمزور ہو جاتا ہے رنگ پیلا پڑ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن افراد میں خون کی کمی ہوتی ہے وہ اکثر لاغر اور کمزور ہوتے ہیں نئے خون کی پیداوار کے بغیر جسم سوکھنا شروع ہو جاتا ہے قدرت نے انگور کو یہ خوبی بخشی ہے کہ اس کے استعمال سے صاف خون پیدا ہوتا ہے۔
انگور کی کئی اقسام ہیں جو رنگ اور حجم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔رنگت کے اعتبار سے سفید‘ سرخ اور سیاہ انگور کی تین اقسام پائی جاتی ہیں ان اقسام میں سفید قسم سب سے زیادہ مقبول ہے اور فائدہ مند ہے ۔جبکہ حجم کے اعتبار سے بھی بڑا انگور‘گول جسے بادانہ یا گولا انگور بھی کہا جاتا ہے ‘لمبوترا یا بیضوی جسے سندرخانی انگور بھی کہتے ہیں‘تین اقسام ہیں۔کچاانگور استعمال نہیں کرناچاہئے کیونکہ خام اور کچے انگور میں وہ غذائیت شیرینی اور قوت نہیں ہوتی جو پکے ہوئے انگور میں ہوتی ہے پکا ہوا شیریں انگور قبض کشا ہوتا ہے زیادہ کھانے سے اسہال لاتا ہے اس کے خشک پھل کو کشمش کہتے ہیں مویز منقی بھی ایک قسم کا خشک انگور ہے کم و بیش جو خواص تازہ انگور میں پائے جاتے ہیں وہی کشمش اور مویز منقی میں پائے جاتے ہیں اگر تازہ دستیاب نہ ہوں تو کشمش استعمال کی جا سکتی ہے جو بہت حد تک انگور کا نعم البدل ہے۔
انگور میں کاربوہائیڈریٹس‘کیلشیم ‘فاسفورس‘فولاد‘وٹامن اے‘بی اور سی پایا جاتا ہے انگور میں سیلولوز شکر اور کچھ تیزاب والے مرکبات ہوتے ہیں جو اس کو قبض کشا بناتے ہیں اس لیے یہ قبض کے مرض میں بہت مفید ہے۔ یہ معدے اور آنتوں کو طاقت بھی دیتا ہے۔معدے کی رطوبت کو مزید ہاضم اور مصفی بنانا ہے بلکہ عمل انہضام کے بعد خون میں شامل ہو کر خون کو صحت مند بناتا ہے۔ بدن کوپرکشش اور فربہی دینے میں بھی دوا کا کام کرتا ہے۔ بچوں کے دانت نکلنے کے دوران اسہال‘ قبض یا تشنجی دورے پڑتے ہیں ان عوارضات کیلئے انگورکا رس بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ جن بچوں کے منہ اور حلق میں چھوٹے چھوٹے چھالے پڑ جاتے ہیں ان کے لیے بھی انگور کا رس نہایت فائدہ مند ہے۔ بچوں کے لیے اس کی مقدار خوراک ایک چائے کے چمچے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ کمزور اور سوکھے کے مرض کا شکار چھوٹے بچوں کو انگورکا رس روزانہ پلانا چاہئے۔بلغمی امراض میں اعتدال کے ساتھ شیریں انگور کا استعمال مفید ہے۔ انگور کا معتدل استعمال جسم میں فاسد مادوں کے اخراج میں بھی مفید ہے۔ کھانسی زکام وغیرہ کیلئے بھی مفید ہے۔ انگور کا رس درد شقیقہ ‘جسم کی کمزوری‘خون کی کمی اور دیگر امراض کیلئے بہت مفید ہے۔قطرہ قطرہ پیشاب آنے کی صورت میں ایک پاؤ انگور روزانہ کھانامفید ہے‘ ضعف گردہ میں انگور کااستعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
گردے ومثانے کی پتھری اور جگر و گردے کے دوسرے عوارضات کیلئے انگور کی بیل کے پتوں کا جوشاندہ بہت مفید ہے جس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ دس گرام انگور کی بیل کے پتوں کو 150ملی لیٹریا ایک کپ پانی میں ڈال کر اتنا جوش دیں کہ وہ تیسرا حصہ یعنی پچاس ملی لیٹر رہ جائے پھر اس کو چھان کر اور بقدر ضرورت میٹھا ملاکر یا بغیر میٹھا کئے پی لیا جائے۔
اطبائے قدیم انگور کو قلب سمیت دیگر کئی امراض اور جسمانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے چلے آئے ہیں جس کی تصدیق اب جدید تحقیقات نے بھی کر دی ہے۔انگور کھانے سے خون پتلا رہتاہے۔خاص طورپر سیاہ یا سرخ انگوروں کا ایک گلاس رس پینے سے خون میں تھکے بننے کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہوجاتاہے جبکہ ایسپرین کھانے سے یہ خطرہ صرف پچاس فیصد کم ہوتاہے۔امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انگوروں کا استعمال دل کے امراض سے محفوظ رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انگوروں میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس نہ صرف حرکتِ قلب کو ہموار رکھتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کا توازن بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جدیدطبی تحقیقات کے مطابق انگور میں ریزرویراٹول (Reserveratol)نامی ایک اہم جزو شامل ہے جو ہمارے جسم میں تین اہم کام سرانجام دیتاہے۔
*۔۔۔خلیے میں ’’ڈی این اے‘‘کو تباہی سے بچاتاہے۔
*۔۔۔عام خلیہ اس سے سرطانی خلیہ میں تبدیل نہیں ہوتا۔
*۔۔۔رسولی بنانے والے خلیوں کو پیدا ہونے اور بڑھنے سے روکتاہے۔انگورسرطان کے تحفظ میں موثر ہے کیونکہ اس میں ’’کیٹے چنز‘‘Catechinsمانع تکسیدوافر ہوتے ہیں۔ جوانسانوں میں چھاتی'غذودمثانہ(پروسٹیٹ)اور دیگر کئی قسم کے سرطانوں میں فائدہ مند ہیں جبکہ جانوروں کے بھی کئی قسم کے گومڑوں اور رسولیو ں میں مفید ثابت ہوئے ہیں۔
سبزیوں اور پھلوں کی کینسر کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے مسلسل تحقیق جاری ہے اور آئے روز اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں ابھی حال ہی میں امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سرطان کے خاتمے کیلئے انگوروں کے بیجوں کا گودا نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے۔
طبی ماہرین نے لیبارٹری میں تجربات کرتے ہوئے خون کے سرطان پر انگوروں کے بیجوں کے گودے کو آزمایا اور صرف24گھنٹوں میں سرطان کے خلیوں کی 76فیصد تعداد کو کم ہوتے دیکھا جبکہ خون کے اندر صحت مند خلیے اس سے محفوظ رہے۔طبی ماہرین نے ان تجربات کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر اب خون کے سرطان کے علاج کی نئی دوا تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل لیو کیمیا کے مریضوں کو کثرت سے انگور کھانے کی سفارش کی جاتی تھی جس کو بنیاد بناکر نئی تحقیق شروع کی گئی تھی۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ انگوروں کے بیجوں میں جسم سے فاسد مادے خارج کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے اور دل کو مضبوط بنانے کیلئے یہ ایک بہترین ٹانک ثابت ہوتے ہیں۔ماہرین نے مزید کہا ہے کہ ان بیجوں میں جلد‘چھاتی‘ مثانہ‘پھیپھڑوں اور معدے کے سرطان کے خلاف بھی قوت دیکھی گئی ہے۔ چوہوں میں چھاتی اور جلد کے کینسر ٹیومر کا سائز ان بیجوں کے استعمال سے کم ہوگیا تھا۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کینٹیکی کے پروفیسر زینگ لینگ شائی نے مکمل کی ہے۔
فرانسیسی ریسرچرز کے مطابق انگور خاص طور پر بینگنی رنگ کے انگور کے جوس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدارکافی زیادہ ہو تی ہے جو دل کی تنگ یا بند شریانوں کی بیماریAtherosclerosisسے ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ انگور کے جوس اور خود انگور کا تجربہ جن جانوروں پر کیا گیا ان کے جسم میں کو لیسٹرول کی سطح کم ہو گئی تھی ‘جسمانی دباؤبھی کم تھا اور جسم کی اہم ترین شریان آورطہ کے گرد چربی کم مقدار میں دیکھی گئی سبز انگور کے مقابلے میں بینگنی رنگ کے انگور میں یہ حفاظتی صلاحیت زیادہ نوٹ کی گئی ۔ اینٹی آکسیڈنٹس کے فوائد تازہ انگور کے علاوہ انگور کے جوس سے بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ Molecular Nutrition & food Researchمیں شائع ہو نے والی رپورٹ میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ جولو گ دل کی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں انہیں تازہ انگور اور اس کا جوس زیادہ استعما ل کر نا چاہئے۔
انگور اور اس کے پتوں کے شربت زمانہ قدیم سے طب اسلامی میں مستعمل ہیں ۔
افادہ عام کیلئے ان کے نسخہ جات نذر قارئین ہیں۔
مقوی و مفرح قلب شربت انگور
ہوالشافی:میٹھے انگور آدھ کلو‘پانی آدھ کلو‘چینی سات سو پچاس گرام۔
ترکیب:انگور کا رس نکال لیں ۔ ایک دیگچی میں پانی اور چینی ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور پکنے دیں۔ ایک دو جوش آجائیں تو انگور کا رس اس میں ڈال دیں اور پکنے دیں چاشنی جب ایک تار ہو جائے تو اتار لیں اور ٹھنڈا ہو نے پر صاف اور خشک بوتل میں بھر لیا جائے۔ یہ شربت گرمی کے موسم میں بہت لذیذ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے دل کو سکون اور دماغ کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔مقوی بدن ہے۔
انگور کے پتوں کا شر بت
ہوالشافی :انگور کے پتے 120گرام‘کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج ہر ایک چالیس گرام‘ پانی تین کلو گرام‘چینی دو کلو گرام۔
ترکیب:کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج اور انگور کے پتوں کو پانی میں ڈال کر بھگو دیا جائے ۔ بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد آگ پر رکھ کر جوش دیں‘جب پانی آدھا رہ جائے تواتارلیں اورچھان کراس میں دو کلو گرام چینی شامل کرکے دوبارہ آگ پر چڑھائیں ہلکا جوش آنے پر قوام تیار ہوجائے تو اتارلیں‘شر بت تیار ہے۔ یہ شربت گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے میں انتہائی موثر ہے۔علاوہ ازیں پیشاب کی جلن اور سوزش میں بھی مفید ہے۔

Sunday, March 9, 2014

Daily Healthy Food,Mask For Hair Development ,Homemade Mosquito trap.

کیا آپ کی یادداشت کمزور ہو رہی ہے؟Your memory is getting weak?

Read More: http://www.express.pk/story/233959/
بہتر خوراک یاداشت کو قائم رکھنے اور دماغ کے خلیوں کی آپس میں پیغام رسانی کے عمل کو تیز کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہےفوٹو : فائل
یہ بات اکثر مشاہدے میں آئی ہے کہ لوگ روز مرہ معمولات میں کچھ ایسے کام بھول جاتے ہیں کہ جو کرنا ضروری ہوتے ہیں اور بعدازاں پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔
کچھ لوگ تو اتنے بھلکڑ ہوتے ہیں کہ بار بار یاددہانی کے باوجود بھی بھول جاتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ’’نسیان‘‘ کی بیماری میں اضافہ ہوتا ہے یہاں تک روزمرہ کے معمولات حتیٰ کہ تھوڑی دیر پہلے کہی ہوئی باتیں بھی بھول جاتی ہیں۔ بعض اوقات ’’نسیان‘‘ کا یہ عارضہ سخت خفت اور پشیمانی کا سبب بنتا ہے۔آخر کار لوگ اس عارضہ سے نجات کیلئے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں۔ آیئے آج ہم آپ کو ایسی خوراک کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جس کے استعمال سے نہ صرف آپ کی دماغی قوت میں اضافہ ہو گا بلکہ ڈاکٹر کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ نسیان کا مرض بھی نہیں ہو گا اور آپ ادویات کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہیں گے۔
اخروٹ:۔بغور دیکھیں تواخروٹ کی بناوٹ بھی انسانی دماغ کی ساخت سے ملتی جلتی ہے۔ اس میں وٹا من ای کی بہتات ہوتی ہے جو الزائمر جیسی خطرناک بیماری کے خلاف بھی مدافعت فراہم کرتی ہے۔

’’شکاگو رش یونیورسٹی‘‘ میں 6000 تندرست افراد پر کی گئی تحقیق کے مطابق یہ لوگ صرف اس لئے نسیان اور الزائمر جیسے امراض سے محفوظ رہے کہ انہوں نے زندگی بھر وٹا من ای سے بھرپور خوراک کا استعمال کیا۔
انڈے:۔انڈے کی افادیت سے کس کو انکار ہے۔ یہ ایک مکمل غذا ہے۔انڈے کی زردی میں ایک مادہ ’’کولائن‘‘ ہوتا ہے جو دماغی طاقت کے لئے مفید ہے۔

یہ یاداشت کو قائم رکھنے اور دماغ کے خلیوں کی آپس میں پیغام رسانی کے عمل کو تیز کرنے میں ممدو و معاون ثابت ہوتا ہے۔ روزانہ ایک انڈہ کھانے والے افراد کا آئی کیو لیول بھی دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
سبزپتوں والی سبزیاں:۔کسے معلوم نہیں کہ سبزیاں صحت و قوت کا خزانہ ہیں۔

عمر رسیدہ عورتوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ عورتیں جنہوں نے زندگی بھر سبزپتوں والی سبزیوں کا متواتر استعمال کیا‘ ان کی یادداشت اور ذہنی استعداد کار ان خواتین کی نسبت بہتر تھی کہ جنہوں نے سبزیاں کھانے سے اعراض برتا۔ ان سبزیوں میں بند گوبھی‘ گوبھی‘ پالک‘ کھیرے‘ سبز پیاز اور سبز لہسن وغیرہ شامل ہیں۔
مچھلی:۔دماغی طاقت کے لئے اومیگا۔3 سے بڑھ کر شاید ہی کوئی چیز کارآمد ہے۔

اگر جسم میں اومیگا۔3 کی مقدار کم ہو تو یہ دماغ کی خراب کارکردگی پر منتج ہوتی ہے۔ اومیگا۔ 3 سرد پانی کی مچھلیوں کی مخصوص اقسام میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمون اور ٹراؤٹ ایسی مچھلیاں ہیں کہ جن میں اومیگا ۔3 پایا جاتا ہے۔ یہ دماغی استعداد کار اور دماغ کے باہم متصل افعال کو بہترین بناتا ہے۔
پروٹین سے بھرپور غذا صحت کی ضامن
موٹاپا ایک ایسا مرض ہے کہ جو دیگر امراض کو دعوت دیتا ہے مثلاً شوگر‘ بلڈ پریشر‘ تھکاوٹ اور دل کے امراض وغیرہ۔ ہر مردو زن موٹاپے سے خوفزدہ رہتا ہے اور خاص طور پر خواتین کو احساس ہو جائے کہ ان کا وزن بڑھ رہا ہے تو ڈائٹنگ کے نام پر فاقے شروع کر دیئے جاتے ہیں اور پروٹین اور فیٹس فراہم کرنے والی خوراک پر بھی لمبی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

مگر اس حقیقت کا ادراک چند افراد کو ہی ہے کہ پروٹین ہمارے جسمانی و ذہنی افعال کے تسلسل کے لئے بے حد ضروری ہے ورنہ جسم مضمحل ہوجاتا ہے اور اس کے افعال میں سستی در آتی ہے۔ آیئے آج ہم کو کچھ ایسے ٹپس دیتے ہیں کہ جن پر عمل کر کے آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا اور آپ کے جسم کو مناسب پروٹین اور فیٹس بھی ملتے رہیں گے۔
سوپ میں پھلیاں استعمال کریں
پھلیوں سے مراد وہ تمام خوردنی اشیاء ہیں جن میں پھلیاں موجود ہوتی ہیں۔ مثلاً لوبیا‘ مٹر‘ رواں وغیرہ یہ بازار سے ڈبوں میں بآسانی دستیاب ہیں۔ ہمارے ہاں زیادہ تر پھلیوں کی جگہ گوشت استعمال کیا جاتا ہے جو کہ موٹاپا پیدا کرتا ہے اور دیر سے ہضم ہوتا ہے۔

آپ کو کرنا صرف یہ ہے کہ اپنے سوپ میں گوشت کی جگہ پھلیاں استعمال کریں۔ ایک تو اس سے آپ کے جسم کی پروٹین سے متعلق غذائی ضروریات بھی پوری ہوں گی جبکہ یہ زود ہضم بھی ہیں اور جسم کو موٹاپے کی طرف بھی مائل نہیں کرتیں۔
دلیے میں دودھ استعمال کریں
اگر آپ کم کیلوریز کے حصول کی خاطر دلیے کو پانی میں بناتے ہیں تو ہماری نصیحت ہے کہ پانی کی جگہ دلیے میں دودھ استعمال کریں۔

اس سے نہ صرف آپ کی خوراک میں صحتمند پروٹین شامل ہو گی بلکہ آپ کا کھانا بھی ذائقہ بخش ہو جائے گا۔ اگر آپ کو یہ منظور نہیں تو آدھا دودھ اور آدھا پانی استعمال کرلیں۔ یقین مانیے یہ ایک صحت بخش اور متوازن کھانا ہے۔
سلاد میں انڈھ شامل کریں
ایک انڈے میں عمومی طور پر 6 گرام پروٹین شامل ہوتی ہے۔ اگر آپ سلاد میں ایک انڈا بھی شامل کر لیں تو ایک مکمل صحت بخش غذا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آپ اسے ابال کر‘ فرائی کرکے غرضیکہ اپنی منشاء اور پسند کے مطابق ڈھال کر سلاد میں شامل کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے جسم کو مطلوبہ صحت بخش پروٹین بھی فراہم کر ے گا جبکہ سلاد کا ذائقہ بھی لذیز ہو جائے گا۔
فروٹ اور پنیر
اگر آپ پھل کھانا چاہتے ہیں تو اس میں کم فیٹس کی حامل پنیر بھی مناسب مقدار میں شامل کر لیں۔ کم فیٹس والی پنیر بازار سے بآسانی دستیاب ہو جاتی ہے۔ مثلاً اگر آپ سیب کھانا چاہتے ہیں تو اس میں پنیر شامل کر لیں۔ اس سے ذائقہ بھی بہتر ہو گا جبکہ آپ کا وزن بھی قابو میں رہے گا اور آپ کے جسم کو مطلوبہ صحت بخش پروٹین بھی مل جائے گی۔
ناشتے کے ساتھ پی نٹ بٹر
اگر آپ کاناشتہ آپ کے پسندیدہ پھلوں پر تو مشتمل ہے مگر اس میں پروٹین شامل نہیں ہے تو پھر یقیناً دوپہر کے کھانے سے قبل ہی آپ کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگیں گے۔ آپ کو شدید بھوک کا احساس ہو گا جو آپ کے معمولات کو متاثر کرے گا۔

اس لئے بہتر ہے کہ آپ ناشتے میں دو چمچ پی نٹ بٹر(Peanut Butter) بھی استعمال کریں جو آپ کو 8 گرام کے قریب صحت بخش پروٹین فراہم کرے گا ۔ اس طرح آپ کو لنچ سے پہلے شدید بھوک کا احساس بھی نہیں ہو گا اور آپ اپنے معمولات بھی چستی اور مستعدی سے سرانجام دے سکیں گے۔
کھانوں میں بیج استعمال کریں
سورج مکھی‘ خربوزے‘ حلوہ کدو وغیرہ کے بیج اور تل پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اگر آپ کھانے کی ڈشز بنانے کے بعد ان پر مناسب مقدار میں بیج ڈال دیں تو اس سے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔ ایک تو کھنے کا ذائقہ بہتر ہو جائے گا‘ پھر آپ کے بدن کو مطلوبہ صحت بخش پروٹین مل جائے گی جبکہ آپ کو موٹاپے کا خوف بھی تنگ نہیں کر ے گا۔
بادام
بادام کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں۔

آپ انہیں کسی بھی وقت اور کسی بھی کھانے کے ساتھ ملا کر کھا سکتے ہیں جبکہ اکیلے بادام کھانا بھی دماغ اور صحت کے لئے بہترین ہیں۔ انھیں لازماً اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔
دہی
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی ایک غالب تعداد کھانے کے بعد میٹھے کو پسند کرتی ہے۔ اس مقصد کے لئے کیک‘ بسکٹ‘ پیسٹری اور دیگر چینی سے بنی اشیاء استعمال کی جاتی ہیں جو موٹاپے اور امراض کو دعوت دیتی ہیں۔

بہتر ہے کہ میٹھے کے شوقین افراد دیگر مضر صحت میٹھی اشیا کی جگہ میٹھا دہی استعمال کریں۔ بازار میں کئی مختلف ذائقوں میں میٹھا دہی بآسانی دستیاب ہے۔ اس طرح میٹھا کھانے کی طلب بھی پوری ہو جائے گی، جسم کو پروٹین بھی مل جائے گی جبکہ وزن بڑھنے کا خوف بھی جاتا رہے گا۔
برقی آلات:بچوں کے بولنے میں تاخیر کی وجہ
سائنس داں کہتے ہیں کہ الیکٹرونک مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں میں دیر سے بولنے اور بات کرنے میں دقت محسوس کرنے کا ذمہ دار ہے۔
تحقیق دانوں کے مطابق بچے کے لیے ماں کی گود پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔ یہیں سے وہ ماں کی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرانا اور اس کے ہنسنے پر قلقاریاں مارنا سیکھتا ہے۔ یہ فطری تعلق اسے ماں کی ذات کا اس قدر عادی بنا دیتا ہے کہ وہ ماں کے نزدیک ہونے پر خوش اور دور جانے پر غمگین دکھائی دیتا ہے۔بچے کا فطری مطالبہ تو آج بھی وہی ہے، مگر معاشی مسائل میں الجھے ہوئے والدین کی ترجیحات پہلے کی نسبت بدل چکی ہیں۔ا ن کے پاس اپنے بچے سے باتیں کرنے اور اس کے معصوم سوالوں کا جواب دینے کے لیے وقت نہیں بچتا۔گذشتہ برس برطانوی ادارہ برائے تعلیم کی جانب سے اسکول کے بچوں میں زبان سیکھنے کی صلاحیت اوربات چیت کرنے کی اہلیت جاننے کے حوالے سے ایک تحقیق کی گئی۔
تحقیق دانوں کے مطابق گذشتہ چھ برسوں کے دوران بات کرنے میں دقت محسوس کرنے والے بچوں کی تعداد میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایسے بچوں کو اسکول میں ایک ماہر زبان دان کی ضرورت پڑتی ہے۔تحقیق دانوں نے بچوں میں دیر سے بولنے اور بات کرنے میں دقت محسوس کرنے کا الزام گھروں میں الیکڑونک مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو دیا ہے۔اسکرین بیسڈ الیکٹرونک مصنوعات کو ہر بچے والے گھر میں ایک سستے ‘بے بی سٹر’ کی حیثیت حاصل ہے، جہاں بچوں کو گھنٹوں ٹی وی، کمپیوٹر، ویڈیو گیم کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ مگر ا ن کا حد سے بڑھتا ہوا استعمال بچوں کے معصوم ذہنوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، خصوصاً کمسن بچے جن کے سیکھنے کے لیے ابتدائی دو سال بہت اہم ہوتے ہیں۔’’بیٹر کمیونیکیشن ریسرچ‘‘ پروگرام کے نام سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کلاس میں بات چیت کرنے میں دقت محسوس کرنے والے بچے جن کی عمریں پانچ سے16 سال کے درمیان ہے، کی تعداد ایک لاکھ پینتیس ہزار سات سو ہے لہٰذا ایسے بچوں کو اسکول میں زبان کی مشقیں کرائی جاتی ہیں، جبکہ ان بچوں میں سیکھنے کا عمل بھی عام بچوں کی نسبت سست ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک ابتدا میں بچے کے گھرکا ماحول اسے زبان سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے،جس میں بچے کے ساتھ ماں کا برتا ؤ، اہل خانہ کا بچے کے ساتھ لگاؤ اور گھر کا سماجی ماحول شامل ہے۔ برطانیہ کی ایک فلاحی تنظیم ‘ آئی کین’ نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں میں دیر سے بات شروع کرنے کے مسئلے کی کئی اور وجوہات بھی ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا مثلاً بچے کی مخصوص ذہنی کیفیت، عادت اور اس کے اطراف کا ماحول بھی بچے کی بولنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔کام پر جانے والے والدین جن کے پاس بچوں کے ساتھ پارک جانے یا سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے وقت نہیں ہوتا وہ خود کو سماجی حلقے کی گہماگہمی سے دور کرلیتے ہیں۔ان تھکے ماندے والدین کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت کم ہوتا ہے۔
ایسی صورتحال میں، بچوں کو ٹی وی پر ان کا پسندیدہ کارٹون شو کئی کئی گھنٹے دکھایا جاتا ہے۔اسی طرح کچھ والدین اپنے سات آٹھ سال کے بچوں کے ہاتھوں میں ویڈیو گیم اور اسمارٹ فون تک تھما دیتے ہیں۔لہذا تنہائی کے زیراثر پلنے والے بچے بڑے ہونے کے بعد بھی بات چیت کرنے میں گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح بچوں والے گھروں میں مل کر دستر خوان پر کھانا کھانے، سردیوں کی راتوں میں ایک ہی کمرے میں جمع ہو کر لوڈو یا کیرم کی بازیاں کھیلنے جیسی خاندانی روایات بھی ختم ہوتی جارہی ہیں اور یہی عوامل بچوں کے بولنے کی صلاحیت پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں۔

Thursday, February 20, 2014

LATEST CANCER INFORMATION PLEASE SHARE IT TO PEOPLE YOU CARE ABOUT



LATEST CANCER INFORMATION

PLEASE SHARE IT TO PEOPLE YOU CARE ABOUT

AFTER YEARS OF TELLING PEOPLE CHEMOTHERAPY IS THE ONLY WAY TO TRY AND ELIMINATE CANCER, FINALLY STARTING TO TELL YOU THERE IS AN ALTERNATIVE WAY … Must Read and Share

1. Every person has cancer cells in the body. These cancer cells do not show up in the standard tests until they have multiplied to a few billion. When doctors tell cancer patients that there are no more cancer cells in their bodies after treatment, it just means the tests are unable to detect the cancer cells because they have not reached the detectable size.

2. Cancer cells occur between 6 to more than 10 times in a person's lifetime.

3. When the person's immune system is strong the cancer cells will be destroyed and prevented from multiplying and forming tumors.

4. When a person has cancer it indicates the person has multiple nutritional deficiencies. These could be due to genetic, environmental, food and lifestyle factors.

5. To overcome the multiple nutritional deficiencies, changing diet and including supplements will strengthen the immune system.

6. Chemotherapy involves poisoning the rapidly-growing cancer cells and also destroys rapidly-growing healthy cells in the bone marrow, gastro-intestinal tract etc, and can cause organ damage, like liver, kidneys, heart, lungs etc.

7. Radiation while destroying cancer cells also burns, scars and damages healthy cells, tissues and organs.

8. Initial treatment with chemotherapy and radiation will often reduce tumor size. However prolonged use of chemotherapy and radiation do not result in more tumor destruction.

9. When the body has too much toxic burden from chemotherapy and radiation the immune system is either compromised or destroyed, hence the person can succumb to various kinds of infections and complications.

10. Chemotherapy and radiation can cause cancer cells to mutate and become resistant and difficult to destroy. Surgery can also cause cancer cells to spread to other sites.


11. An effective way to battle cancer is to STARVE the cancer cells by not feeding it with foods it needs to multiple.

What cancer cells feed on:

a. Sugar is a cancer-feeder. By cutting off sugar it cuts off one important food supply to the cancer cells. Note: Sugar substitutes like NutraSweet, Equal, Spoonful, etc are made with Aspartame and it is harmful. A better natural substitute would be Manuka honey or molasses but only in very small amounts. Table salt has a chemical added to make it white in colour. Better alternative is Bragg's aminos or sea salt.


b. Milk causes the body to produce mucus, especially in the gastro-intestinal tract. Cancer feeds on mucus. By cutting off milk and substituting with unsweetened soy milk, cancer cells will starved.

c. Cancer cells thrive in an acid environment. A meat-based diet is acidic and it is best to eat fish, and a little chicken rather than beef or pork. Meat also contains livestock antibiotics, growth hormones and parasites, which are all harmful, especially to people with cancer.

d. A diet made of 80% fresh vegetables and juice, whole grains, seeds, nuts and a little fruits help put the body into an alkaline environment. About 20% can be from cooked food including beans. Fresh vegetable juices provide live enzymes that are easily absorbed and reach down to cellular levels within 15 minutes t o nourish and enhance growth of healthy cells.

To obtain live enzymes for building healthy cells try and drink fresh vegetable juice (most vegetables including bean sprouts) and eat some raw vegetables 2 or 3 times a day. Enzymes are destroyed at temperatures of 104 degrees F (40 degrees C).

e. Avoid coffee, tea, and chocolate, which have high caffeine. Green tea is a better alternative and has cancer-fighting properties. Water--best to drink purified water, or filtered, to avoid known toxins and heavy metals in tap water. Distilled water is acidic, avoid it.

12. Meat protein is difficult to digest and requires a lot of digestive enzymes. Undigested meat remaining in the intestines will become putrified and leads to more toxic buildup.

13. Cancer cell walls have a tough protein covering. By refraining from or eating less meat it frees more enzymes to attack the protein walls of cancer cells and allows the body's killer cells to destroy the cancer cells.

14. Some supplements build up the immune system (IP6, Flor-ssence, Essiac, anti-oxidants, vitamins, minerals, EFAs etc.) to enable the body's own killer cells to destroy cancer cells. Other supplements like vitamin E are known to cause apoptosis, or programmed cell death, the body's normal method of disposing of damaged, unwanted, or unneeded cells.

15. Cancer is a disease of the mind, body, and spirit. A proactive and positive spirit will help the cancer warrior be a survivor.

Anger, unforgiving and bitterness put the body into a stressful and acidic environment. Learn to have a loving and forgiving spirit. Learn to relax and enjoy life.

16. Cancer cells cannot thrive in an oxygenated environment. Exercising daily, and deep breathing help to get more oxygen down to the cellular level. Oxygen therapy is another means employed to destroy cancer cells.

(PLEASE SHARE IT TO PEOPLE YOU CARE ABOUT)

Wednesday, February 19, 2014

Benefits of Seed Spogul


اسپغول
عربی: بزر قطونا، فارسی: اسپغول، سندھی: اسپنگر، انگریزی: Seed Spogul
اسپغول سے تقریباً ہر شخص وا قف ہے۔ بڑی مشہور عام دوا ہے۔ اسپغول ایک بیج ہے جس کا پو دا ایک گز کے قریب اونچا ہوتا ہے ۔ اس کی ٹہنیا ں باریک ہو تی ہیں اور پتے لمبے یعنی جامن کے پتو ں سے تقریبا ً مشا بہ ہوتے ہیں ۔ اس کا رنگ سرخی ما ئل سفید اور سیا ہ ہوتاہے۔ یہ بے ذائقہ اورلعاب دار ہوتا ہے اس کامزاج سر د اور تر ہو تا ہے۔ اس کی مقدار خوراک تین ماشہ سے ایک تولہ ہوتی ہے ۔ اسپغول کے چھلکے کو سبوس اسپغول کہتے ہیں
اسپغول کے فوائد
گرمی اور پیا س کو تسکین دیتا ہے ۔
گرمی کے بخار اور خون کے جو ش کو تسکین دے کر طبیعت کو نرم کر تاہے ۔
سینہ ، زبان ،حلق کے کھر کھراپن اور صفراوی و دمو ی بیماریو ںکے لیے مفید ہے ۔
آنتو ں کے زخمو ں اور مروڑ ہونے کی حالت میں بے حد مفید ہے ۔اس کے لیے اسے شربت صندل میں ایک بڑا چمچہ ڈال کر پلا نا مفید ہوتا ہے۔
قبض کشا ہے۔ آنتو ں میں پھسلن پیدا کر تا ہے۔ اس کے لیے رات سو تے وقت ایک گلا س دودھ میںایک تولہ اسپغول کا چھلکا ملا کر تین چار منٹ کے بعد استعمال کرنے سے کھل کر اجابت ہو تی ہے ۔یہ دائمی قبض میں بھی بے حد مفید ہے۔
مر دانہ جوہر کو گاڑھا کر تا ہے اور قوت با ہ بڑھا تاہے ۔
سر درد کی صورت میں اسپغول سر کہ میں رگڑ کر چنبیلی کا تیل ملا کر پیشانی پر لیپ کرنے سے فائدہ ہو تاہے ۔ اگر چنبیلی کے روغن کی بجائے بادام روغن ملا کر پیا جا ئے تو سر درد کا فائدہ ہو تا ہے ۔
جریا ن میں اسپغول کا چھلکا ہمرا ہ شربت بزوری یا صندل کے، صبح نہا ر منہ پینا فائدہ مند ہے۔
دماغی طاقت بڑھا تا ہے ۔ دما غی کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ رات سو تے وقت پانچ دانے گری بادام چبا کر کھائیں اور بعد میں ایک تولہ اسپغول دود ھ میں ملا کرپئیں۔ یہ مقوی دما غ نسخہ ہے ۔
نسیا ن کے امرا ض میں اسپغول ایک بڑا چمچہ ہمرا ہ شربت صندل ،صبح نہا ر منہ پینا بے حد مفید ہے اور رات کو سوتے وقت پانچ دانہ گری بادام ، سونف ایک تولہ اور کوزہ مصری حسب ضرورت ہمرا ہ دودھ استعمال کریں ۔
منہ کے دانو ں کی تکلیف میں اسپغول کا استعمال بے حد مفید ہے ۔ ایسی صورت میں دہی میں ایک چمچہ بڑا ملا کر صبح نہار منہ کھایا جائے اور ہر کھانے کے بعد دہی کے ایک یا دو چمچ استعمال کریں ۔
ورمو ں کو تحلیل کرنے کے لیے اسپغول کو سرکہ میں رگڑ کر متاثرہ جگہ پر لیپ کر نا بے حد مفید ہے ۔
پیچش میں اسپغول ایک تولہ پانی کے ساتھ کھانے سے فائدہ ہو تا ہے ۔
سوز ا ک میں اسپغول کو پانی یا شربت کے ہمرا ہ چند یوم تک استعمال کرنے سے شفا ہوتی ہے۔
معدے کی بیماریو ں ، خاص طور پر السر میں بے حد مفید ہے ۔
بالو ں کو نرم اور بڑھانے کے لیے عرق گلا ب میںرگڑ کر با لو ں پر لیپ کرنے اور دو گھنٹے بعد دھونے سے فائدہ ہو تاہے۔ یہ علا ج موسم گر ما کے لیے ہے ۔
خشک کھانسی اور دمہ کے لیے روزانہ ایک تولہ اسپغول دودھ یا پانی کے ساتھ چالیس روز تک استعمال کریں ۔
اسپغول کا جو شاندہ بطور مسکن و ملین مشروب سو زش معدہ اورفم معدہ اور سینے کی جلن میںمفید ہے ۔
‎اسپغول

عربی: بزر قطونا، فارسی: اسپغول، سندھی: اسپنگر، انگریزی: Seed Spogul

اسپغول سے تقریباً ہر شخص وا قف ہے۔ بڑی مشہور عام دوا ہے۔ اسپغول ایک بیج ہے جس کا پو دا ایک گز کے قریب اونچا ہوتا ہے ۔ اس کی ٹہنیا ں باریک ہو تی ہیں اور پتے لمبے یعنی جامن کے پتو ں سے تقریبا ً مشا بہ ہوتے ہیں ۔ اس کا رنگ سرخی ما ئل سفید اور سیا ہ ہوتاہے۔ یہ بے ذائقہ اورلعاب دار ہوتا ہے اس کامزاج سر د اور تر ہو تا ہے۔ اس کی مقدار خوراک تین ماشہ سے ایک تولہ ہوتی ہے ۔ اسپغول کے چھلکے کو سبوس اسپغول کہتے ہیں

اسپغول کے فوائد

گرمی اور پیا س کو تسکین دیتا ہے ۔
گرمی کے بخار اور خون کے جو ش کو تسکین دے کر طبیعت کو نرم کر تاہے ۔
سینہ ، زبان ،حلق کے کھر کھراپن اور صفراوی و دمو ی بیماریو ںکے لیے مفید ہے ۔
آنتو ں کے زخمو ں اور مروڑ ہونے کی حالت میں بے حد مفید ہے ۔اس کے لیے اسے شربت صندل میں ایک بڑا چمچہ ڈال کر پلا نا مفید ہوتا ہے۔
قبض کشا ہے۔ آنتو ں میں پھسلن پیدا کر تا ہے۔ اس کے لیے رات سو تے وقت ایک گلا س دودھ میںایک تولہ اسپغول کا چھلکا ملا کر تین چار منٹ کے بعد استعمال کرنے سے کھل کر اجابت ہو تی ہے ۔یہ دائمی قبض میں بھی بے حد مفید ہے۔
مر دانہ جوہر کو گاڑھا کر تا ہے اور قوت با ہ بڑھا تاہے ۔
سر درد کی صورت میں اسپغول سر کہ میں رگڑ کر چنبیلی کا تیل ملا کر پیشانی پر لیپ کرنے سے فائدہ ہو تاہے ۔ اگر چنبیلی کے روغن کی بجائے بادام روغن ملا کر پیا جا ئے تو سر درد کا فائدہ ہو تا ہے ۔
جریا ن میں اسپغول کا چھلکا ہمرا ہ شربت بزوری یا صندل کے، صبح نہا ر منہ پینا فائدہ مند ہے۔
دماغی طاقت بڑھا تا ہے ۔ دما غی کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ رات سو تے وقت پانچ دانے گری بادام چبا کر کھائیں اور بعد میں ایک تولہ اسپغول دود ھ میں ملا کرپئیں۔ یہ مقوی دما غ نسخہ ہے ۔
نسیا ن کے امرا ض میں اسپغول ایک بڑا چمچہ ہمرا ہ شربت صندل ،صبح نہا ر منہ پینا بے حد مفید ہے اور رات کو سوتے وقت پانچ دانہ گری بادام ، سونف ایک تولہ اور کوزہ مصری حسب ضرورت ہمرا ہ دودھ استعمال کریں ۔
منہ کے دانو ں کی تکلیف میں اسپغول کا استعمال بے حد مفید ہے ۔ ایسی صورت میں دہی میں ایک چمچہ بڑا ملا کر صبح نہار منہ کھایا جائے اور ہر کھانے کے بعد دہی کے ایک یا دو چمچ استعمال کریں ۔
ورمو ں کو تحلیل کرنے کے لیے اسپغول کو سرکہ میں رگڑ کر متاثرہ جگہ پر لیپ کر نا بے حد مفید ہے ۔
پیچش میں اسپغول ایک تولہ پانی کے ساتھ کھانے سے فائدہ ہو تا ہے ۔
سوز ا ک میں اسپغول کو پانی یا شربت کے ہمرا ہ چند یوم تک استعمال کرنے سے شفا ہوتی ہے۔
معدے کی بیماریو ں ، خاص طور پر السر میں بے حد مفید ہے ۔
بالو ں کو نرم اور بڑھانے کے لیے عرق گلا ب میںرگڑ کر با لو ں پر لیپ کرنے اور دو گھنٹے بعد دھونے سے فائدہ ہو تاہے۔ یہ علا ج موسم گر ما کے لیے ہے ۔
خشک کھانسی اور دمہ کے لیے روزانہ ایک تولہ اسپغول دودھ یا پانی کے ساتھ چالیس روز تک استعمال کریں ۔
اسپغول کا جو شاندہ بطور مسکن و ملین مشروب سو زش معدہ اورفم معدہ اور سینے کی جلن میںمفید ہے ۔‎

Tuesday, February 18, 2014

how to Save our Liver From Daises

جگر (Liver) کی حفاظت کریں۔
اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو جگر (Liver) کی شکل میں ایک ایسا آلہ دیا ہے جو کہ ہمیں بتائے بغیر ہی ہمارے جسم میں بہت اہم کام کرتا رہتا ہے۔ جسم میں خون پیدا کرنا، بیرونی جراثیم سے جسم کی حفاظت، خوراک کو ٹھیک طرح ہضم کرنا، اور بہت سے دوسرے کام ہیں جو ہمارے جگر کے ذمے ہوتے ہیں۔ ذیل مین کچھ ایسے ہی مزید اہم کاموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، تاکہ ہمیں جگر کی افادیت کا احساس ہو سکے۔ (زیادہ تر معلومات ایک ایمیل سے ماخوذ ہیں۔ کمی بیشی معاف کیجئے گا)
1۔ جگر انسانی جسم کے لیے بہت زیادہ تعداد میں آئرن اور بہت سے پروٹینز اور وٹامنز کو محفوظ کر کے رکھتا ہے، تاکہ بوقت ضرورت جسم کو ان کی سپلائی کی جا سکے۔ اگر جگر نہ ہو ہمارے جسم کا کوئی اور حصہ اتنی مقدار کو محفوظ نہیں کر سکتا۔
2۔ جگر "بائل" نامی ایک لیکوڈ بناتا ہے، جو کہ خوارت کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
3۔جگر زہریلی اشیاء کے اثر کو ختم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہ اشیاء کسی بھی طرح انسانی جسم میں داخل ہو سکتی ہیں، مثلا شراب نوشی، سگریش نوشی، غلط دوائیوں کا استعمال۔
4۔ جگر شوگر کو اپنے اندر جسم کو توانائی پہنچانے کے لیے محفوظ کرتا ہے۔ اگر جگر نہ ہو تو جسم میں شوگر لیول اتنا زیادہ بڑھ جائے کہ ہم قومہ میں پہنچ جائیں
5۔جگر جسم کے لیے خون پیدا کرتا ہے۔
6۔ جگر جسم کے لیے نئے پروٹین پیدا کرتا ہے جو جسم کی نشونما کے لیے بہت ضروری ہیں۔
7۔ جگر جسم میں داخل ہونے والے جراثیم جو کہ سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، ان کے خلاف بھی کام کرتا ہے۔ یہ جراثیم فلو، زکام، کھانسی یا کسی اور بیماری کے بھی ہو سکتے ہیں۔ جگر ان جراثیم کا یا تو بالکل ختم کر دیتا ہے، یا انہیں کمزور بنا دیتا ہے۔
8۔ چوٹ لگنے کی صورت میں جب خون نکلتا ہے، تو اسے روکنے میں بھی جگر اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور اس کام کو "Clotting Factor " کہتے ہیں۔
یہ تو تھے کچھ کام، جو کہ جگر کے ذمے ہیں۔ اب کچھ ایسی کام جو ہمارے ذمے ہیں تاکہ جگر اپنا کام اچھی طرح کرتا رہے اور کسی بھی قسم کی بڑی بیماری سے محفوظ رہے (باذن اللہ)
1۔ شراب نوشی، سگریٹ نوش اور دوائیوں کا بے جا استعمال جگر کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوائی ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں اور خود ڈاکٹر بننے سے پرہیز کریں۔
2۔ کیڑے مار ادویات بہت زہریلی ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسی ادویات کےا ستعمال کے وقت دستانے پہنے اور ماسک لگانا نہ بھولیں۔
3۔ جب بھی کوئی سپرے کریں تو ماسک لگانا نہ بھولیں، کیونکہ سانس کے ساتھ جو بھی چیز جسم میں جاتی ہے، جگر کو اس کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔
4۔ بہت زیادہ کھانا، اور بے احتیاطی سے کھانا ، مختلف قسم کی ڈرنکس مثلا پیسی، سیون اپ ، مرنڈا وغیرہ کا بے جا استعمال جگر کو متاثر کر سکتا ہے۔
یاد رکھیے، جسم میں اگر جگر کام کرنا چھوڑ دے، یا اسکا کام کرنا متاثر ہو جائے تو ہمیں تب پتہ چلتا ہے جب اس کی بیماری آخری اسٹیج پر ہو۔ اس سے پہلے ایسے ہی لگتا ہے کہ جیسے ہر چیز نارمل چل رہی ہے۔
اسلیے وقتا فوقتا جگر کا چیک اپ کرواتے رہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمت کا صحیح استعمال کریں۔

Every single cell in your body needs it in order to absorb nutrients and expel waste products Drink Up

Every single cell in your body needs it in order to absorb nutrients and expel waste products Drink Up

Informative for All Pakistani Must Share

Informative:
Must Share


Friday, February 14, 2014

How to Lose your Weight

وژن گھٹانے کے لئے بہترین مصلے

Friday, February 7, 2014

Kadhu ki Afadiyat

اگر دل اجازت دے تو ضرور لائک کریں ... جزاک اللہ خیر_
‎اگر دل اجازت دے تو ضرور لائک کریں ... جزاک اللہ خیر_‎

Tuesday, January 21, 2014

دانت کے درد کا علاج



دانت کے درد کا علاج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے ممبرز نے داڑھ کے درد کا کوئی آسان اور مفید علاج پوچھا ہے تو انکے لیے چند مفید علاج درج ہیں

ادرک کی چپٹی سی قاش کاٹ کر اس پہ نمک لگا کر درد والے دانت پر رکھ کر دبا لیں۔
2. میٹھا سودا (بیکنگ پاؤڈر) اور پتھر والا نمک ہم وزن پیس کر بطور منجن استعمال کریں یا درد والی جگہ پر مل کر چھوڑ دیں
3. لونگ کا تیل روئی میں لگا کر درد والی جگہ پر رکھیں یا ثابت لونگ چبا کر درد والی جگہ پر کچھ دیر رکھ لیں۔ ان شاء اللہ درد رفع ہوجائے گا۔

پرسکون نیند لانے کے لیے

پرسکون نیند لانے کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو پرسکون نیند نہ آنے کی صورت میں ایک آزمودہ نسخہ استعمال کریں
خالص سرسوں کا تیل لے کر رات کو سوتے وقت پاؤں کے تلوں پر چار پانچ منٹ تک ملیں اس سے دماغ کو تراوٹ وسکون ملے گا‘ نظر بڑھے گی اور سکون سے نیند آئے گی۔ یادداشت تیز کرنے کیلئے اس سے بہتر اور آسان نسخہ اور کوئی نہیں ہے۔
(پوسٹ کو شیئر ضرور کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا فائدہ ہو )